بیجنگ (شِنہوا) چین کے مرکزی زیرانتظام سرکاری اداروں (ایس او ایز) کی اسٹریٹجک ابھرتی ہوئی صنعتوں میں سرمایہ کاری میں ایک سال پہلے کے مقابلے میں رواں سال کے پہلے آٹھ ماہ میں تقریباً 30 فیصد اضافہ ہوا۔
ریاستی کونسل کے سرکاری اثاثوں کی نگرانی اور انتظامی کمیشن نے بتایا کہ اس مدت کے دوران اس طرح کی سرمایہ کاری 840 ارب یوآن (تقریباً116ارب99کروڑ ڈالر) سے زیادہ رہی۔ کمیشن کے تحقیقی مرکز کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سال، سٹریٹجک ابھرتی ہوئی صنعتوں میں مرکزی ایس او ایزکی سرمایہ کاری ان اداروں کی جانب سے کی گئی مجموعی سرمایہ کاری کے 20 فیصد سے زیادہ تھی۔
سڈنی(شِنہوا) کریباتی میں چین کے سفیر ژؤ لی مِن نے منگل کوکریباتی کے صدر تانیٹی ماماو کوسفارتی اسناد پیش کیں۔
ژؤ، جو 18 ستمبر کو جنوبی بحرالکاہل کے جزیرے پر مشتمل ملک پہنچے تھے، نے کہا کہ ستمبر 2019 میں سفارتی تعلقات دوبارہ شروع کرنے کے بعد سے دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات میں تیزی سے اضافہ ہوا اور نتیجہ خیز تعاون کیا گیا ہے۔
چینی سفیر نے کہا کہ وہ اپنی سفارتی مدت کے دوران کریباتی حکومت کے ساتھ مل کر سیاسی باہمی اعتماد کو مضبوط بنانے، دو طرفہ تعاون کو وسعت دینے اور دونوں ممالک کے لوگوں کے درمیان دوستی کو بڑھانے کے لیے تیار ہیں تاکہ چین اور کریباتی کے درمیان تعلقات کو فروغ دیا جا سکے۔
سڈنی(شِنہوا) کریباتی میں چین کے سفیر ژؤ لی مِن نے منگل کوکریباتی کے صدر تانیٹی ماماو کوسفارتی اسناد پیش کیں۔
ژؤ، جو 18 ستمبر کو جنوبی بحرالکاہل کے جزیرے پر مشتمل ملک پہنچے تھے، نے کہا کہ ستمبر 2019 میں سفارتی تعلقات دوبارہ شروع کرنے کے بعد سے دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات میں تیزی سے اضافہ ہوا اور نتیجہ خیز تعاون کیا گیا ہے۔
چینی سفیر نے کہا کہ وہ اپنی سفارتی مدت کے دوران کریباتی حکومت کے ساتھ مل کر سیاسی باہمی اعتماد کو مضبوط بنانے، دو طرفہ تعاون کو وسعت دینے اور دونوں ممالک کے لوگوں کے درمیان دوستی کو بڑھانے کے لیے تیار ہیں تاکہ چین اور کریباتی کے درمیان تعلقات کو فروغ دیا جا سکے۔
رم اللہ(شِنہوا) فلسطینی حکومت نے مغربی کنارے کے علاقے سی میں اسرائیلی بستیوں میں توسیع سے نمٹنے کے لیے ایک وزارتی کمیٹی قائم کی ہے۔رم اللہ میں منعقدہ ہفتہ وار کابینہ اجلاس کے بعد فلسطینی حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ نئی کمیٹی ایریا سی میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر توجہ دے گی،جس میں سڑکوں کی تعمیر، زمین کی بحالی، بجلی کی لائنوں کی توسیع کے ساتھ ساتھ پانی کی فراہمی اور مواصلاتی نیٹ ورکس کی ترقی بھی شامل ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ کمیٹی کا مقصد علاقے پر اپنی خودمختاری کا قیام اورعلاقے میں شہری زندگی کو بہتر بنا کر سی علاقے میں فلسطینی باشندوں کی حیثیت کی حمایت کرنا ہے۔ وزیراعظم محمد اشتيہ کے حوالے سے بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ اسرائیلی حکومت نے ایریا سی کو ضم کرنے کی کوشش کی اور یہ کہ یہ علاقہ ریاست فلسطین کے پورے علاقے کا اٹوٹ حصہ ہے۔
بیجنگ(شِنہوا) چینی محققین نے مشرقی ایشیا کا ایک ہائی ریزولیوشن ویٹ لینڈ کا نقشہ تیار کیا ہے، جس میں ویٹ لینڈز کے تحفظ اور پائیدار ترقی پر نئی روشنی ڈالی گئی ہے۔
جریدے ریموٹ سینسنگ برائے ماحولیات میں شائع تحقیق میں محققین نے براعظمی پیمانے پر ویٹ لینڈ کی نقشہ سازی کے لیے دو مراحل پرمبنی ایک نئی درجہ بندی تیارکرتے ہوئے مشرقی ایشیا کا پہلا اور تازہ ترین 10 میٹر ریزولوشن کا ویٹ لینڈ کا نقشہ تیار کیاہے۔
تحقیق کے مطابق، مشرقی ایشیا میں تین وسیع کیٹیگری اور 12 ذیلی کیٹیگریزکے ساتھ اس نقشے نے مجموعی طور پر 88 فیصد سے زیادہ درستگی حاصل کی۔
نقشے کے مطابق، 2021 میں اس خطے میں کل ویٹ لینڈ کا رقبہ4لاکھ 81ہزار800مربع کلومیٹر سے زیادہ تھا، جو بنیادی طور پر چین کے شمال مشرقی اور چنگھائی-تبت سطح مرتفع میں تقسیم تھا۔ چین کے پاس مشرقی ایشیاء میں کل 88 فیصد سے زیادہ ویٹ لینڈ وسائل ہیں، اس کے بعد منگولیا کا نمبر آتا ہے۔
لاس اینجلس(شِنہوا) امریکی ریاست یوٹاہ میں ایک چھوٹے طیارے کے حادثے میں چار افراد ہلاک ہو گئے۔
گرینڈ کاؤنٹی شیرف کے دفتر کے مطابق، چھوٹا طیارہ مشرقی یوٹاہ کے ایک شہر موآب کے کینیون لینڈز ریجنل ہوائی اڈے سے اڑان بھرنے کے فوراً بعد ایک دور دراز علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا۔
شیرف کے دفتر نے اپنے فیس بک پیج پرایک بیان میں کہاکہ افسوسناک طور پر، طیارے کا پائلٹ، نارتھ ڈکوٹا ریاست کے سینیٹر ڈگ لارسن، ان کی اہلیہ اور ان کے دو بچے حادثے میں محفوظ نہیں رہے۔
یو ایس فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) نے ایک بیان میں کہا کہ سنگل انجن پائپر پی اے -28 اتوار کی رات مقامی وقت کے مطابق 8 بج کر20 منٹ کے قریب گر کر تباہ ہوا۔
سٹاک ہوم(شِنہوا) فزکس میں 2023 کا نوبل انعام تین سائنس دانوں یئر اگوسٹینی، فیرنک کراؤز اور این ایل ہولیئر کو مادے میں الیکٹران کی حرکیات کے مطالعہ کے لیے روشنی کی اٹوسیکنڈ پلسزپیدا کرنے کے تجربے پر مشترکہ طورپردیا گیا ہے۔
رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز نے منگل کوایک بیان میں کہا کہ فزکس 2023 کے تین نوبل انعام یافتگان کو ان کے تجربات پر نوبل انعام سے نوازاگیا ہے جنہوں نے ایٹموں اور مالیکیولز کے اندر الیکٹران کی دنیا کو تلاش کرنے کے لیے انسانیت کو نئے ٹولزفراہم کیے ہیں۔
بیان میں مزید کہاگیا ہے کہ تینوں سائنسدانوں نے روشنی کی انتہائی مختصر پلسز بنانے کا ایک طریقہ وضع کیا جس کا استعمال تیز رفتار عمل کی پیمائش کے لیے کیا جا سکتا ہے جس میں الیکٹران حرکت کرتے ہیں یا توانائی بدلتے ہیں۔
شیامن(شِنہوا) چین کے جنوب مشرقی صوبے فوجیان کے ساحلی شہر شیامن کی برکس ممالک کے ساتھ تجارت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 28.7 فیصد اضافہ ہوا جورواں سال کے پہلے آٹھ ماہ میں75ارب81کروڑیوآن (تقریباً10ارب60کروڑڈالر) تک پہنچ گیا ہے۔
شیامن کسٹمزکے مطابق برکس ممالک کوشیامن کی برآمدات جنوری سے اگست تک گزشتہ سال کے مقابلے میں 10.4 فیصداضافے کے ساتھ 20ارب 34کروڑ یوآن رہی جبکہ اس کی برکس ممالک سے درآمدات گزشتہ سال کی نسبت 37 فیصد اضافے کے ساتھ 55ارب 47کروڑ یوآن تھیں۔
اس عرصے کے دوران اہم درآمدی سامان میں کوئلہ اور لگنائٹ، خام دھاتیں اور معدنی ریت اور زرعی مصنوعات تھیں،جب کہ برآمدات میں مکینیکل اور برقی مصنوعات کے ساتھ ساتھ افرادی قوت سے متعلقہ ضرورت والی اشیا شامل تھیں۔
شیامن(شِنہوا) چین کے جنوب مشرقی صوبے فوجیان کے ساحلی شہر شیامن کی برکس ممالک کے ساتھ تجارت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 28.7 فیصد اضافہ ہوا جورواں سال کے پہلے آٹھ ماہ میں75ارب81کروڑیوآن (تقریباً10ارب60کروڑڈالر) تک پہنچ گیا ہے۔
شیامن کسٹمزکے مطابق برکس ممالک کوشیامن کی برآمدات جنوری سے اگست تک گزشتہ سال کے مقابلے میں 10.4 فیصداضافے کے ساتھ 20ارب 34کروڑ یوآن رہی جبکہ اس کی برکس ممالک سے درآمدات گزشتہ سال کی نسبت 37 فیصد اضافے کے ساتھ 55ارب 47کروڑ یوآن تھیں۔
اس عرصے کے دوران اہم درآمدی سامان میں کوئلہ اور لگنائٹ، خام دھاتیں اور معدنی ریت اور زرعی مصنوعات تھیں،جب کہ برآمدات میں مکینیکل اور برقی مصنوعات کے ساتھ ساتھ افرادی قوت سے متعلقہ ضرورت والی اشیا شامل تھیں۔
بیجنگ(شِنہوا)چین چاند پر پے لوڈ لے جانے کے لیے بین الاقوامی تعاون کے مواقع پیش کرہا ہے،جسے 2028 کے آس پاس قمری تحقیق کے لیے خلا میں جانے والے مشن چھانگ- ای8 کے ذریعے بجھوایا جائے گا۔
چین کےقومی خلائی ادارے (سی این ایس اے) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیاہے کہ چھانگ- ای8 مشن تمام ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے لیے مشن، سسٹم یا سنگل مشین کی سطح پر تعاون کے لیے تیار ہے تاکہ مزید بڑی اصل دریافتوں کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔
سی این ایس اے نےآذربائیجان کے شہر باکو، میں جاری بین الاقوامی خلائی کانگریس میں بولی کے دعوت نامے کا بھی اعلان کیا۔
سی این ایس اے کے مطابق چھانگ ای 8 مشن،چین کے چاند پر تحقیق کے چوتھے مرحلے میں اہمیت کا حامل مشن ہے،جوچاند کی سطح پر مزید کھوج اور تحقیق کرے گا،چاند کی سطح سےزمینی مشاہدات اور چاند کی سطح کے اندر سے لیے گئے نمونوں کا تجزیہ اور وسائل کے استعمال کے ساتھ ساتھ چاند کی سطح پر بند ماحولیاتی نظام کا تجربہ کرے گا۔
اقوام متحدہ(شِنہوا)چین نے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی مرکزیت کے ساتھ بین الاقوامی نظام کی مستقل حمایت کرے گا۔
اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل نمائندے دائی بنگ نے اقوام متحدہ کی 78 ویں جنرل اسمبلی کی پانچویں کمیٹی کے مرکزی افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین بنی نوع انسان کے ہم نصیب مستقبل کے ساتھ ایک کمیونٹی کی تعمیر کو فروغ دینے کے لیے انتھک محنت کررہا ہے اوروہ اقوام متحدہ کی مرکزیت کے ساتھ بین الاقوامی نظام کو مضبوطی سے برقراررکھ رہاہے،یہ کمیٹی اقوام متحدہ کے اندرونی انتظامی اور بجٹ کے معاملات کی ذمہ دار ہے۔
چینی سفیر نے کہا کہ جاری عالمی چیلنجوں کا سامنا کرتے ہوئے، رکن ممالک کو اقوام متحدہ کے کردار کو مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کرتے ہوئے حقیقی کثیرالجہتی پر قائم رہنا چاہیے۔
دائی بنگ نے کہا کہ مالیات اقوام متحدہ کیے امور چلانے کی بنیاد اور ایک اہم عنصر کے طور پر کام کرتا ہے۔اقوام متحدہ کے کردار کو برقرار رکھنے اور کثیرالجہتی کے عزم کو پورا کرنے کے لیے، تمام رکن ممالک کو اپنی ذمہ داریاں پورا کرنا ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ ایک بڑے شراکت دار کے ذمہ طویل عرصے کے بقایا جات ہیں جو اقوام متحدہ کے لیکویڈیٹی بحران کی بنیادی وجہ ہے۔
اقوام متحدہ(شِنہوا)چین نے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی مرکزیت کے ساتھ بین الاقوامی نظام کی مستقل حمایت کرے گا۔
اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل نمائندے دائی بنگ نے اقوام متحدہ کی 78 ویں جنرل اسمبلی کی پانچویں کمیٹی کے مرکزی افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین بنی نوع انسان کے ہم نصیب مستقبل کے ساتھ ایک کمیونٹی کی تعمیر کو فروغ دینے کے لیے انتھک محنت کررہا ہے اوروہ اقوام متحدہ کی مرکزیت کے ساتھ بین الاقوامی نظام کو مضبوطی سے برقراررکھ رہاہے،یہ کمیٹی اقوام متحدہ کے اندرونی انتظامی اور بجٹ کے معاملات کی ذمہ دار ہے۔
چینی سفیر نے کہا کہ جاری عالمی چیلنجوں کا سامنا کرتے ہوئے، رکن ممالک کو اقوام متحدہ کے کردار کو مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کرتے ہوئے حقیقی کثیرالجہتی پر قائم رہنا چاہیے۔
دائی بنگ نے کہا کہ مالیات اقوام متحدہ کیے امور چلانے کی بنیاد اور ایک اہم عنصر کے طور پر کام کرتا ہے۔اقوام متحدہ کے کردار کو برقرار رکھنے اور کثیرالجہتی کے عزم کو پورا کرنے کے لیے، تمام رکن ممالک کو اپنی ذمہ داریاں پورا کرنا ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ ایک بڑے شراکت دار کے ذمہ طویل عرصے کے بقایا جات ہیں جو اقوام متحدہ کے لیکویڈیٹی بحران کی بنیادی وجہ ہے۔
پنوم پن(شِنہوا) کمبوڈیا میں عوام کے لیےگزشتہ سال نومبر میں باضابطہ طور پر کھولے جانے کے بعد سے پنوم پن-سیہانوک ویل ایکسپریس وے پرپہلے 11 ماہ میں 42لاکھ سے زیادہ گاڑیوں نے سفر کیاہے۔
وزارت تعمیرات عامہ وٹرانسپورٹ میں ٹیکنالوجی اورتعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل اورترجمان ہیانگ سوتھیوتھ نے منگل کوشِنہوا کو بتایا کہ نومبر 2022 سے ستمبر 2023 تک، پنوم پن -سیہانوک ویل ایکسپریس وے پر ٹریفک کا مجموعی حجم 42لاکھ 40ہزار گاڑیاں رہا۔
چائنہ روڈ اینڈ برج کارپوریشن (سی آر بی سی) کی طرف سے 2 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری سے، 187 کلومیٹر طویل ایکسپریس وے دارالحکومت پنوم پن کو بین الاقوامی گہرے پانیوں کے بندرگاہی صوبے پریہ سیہانوک سے ملاتی ہے۔
سوتھیوتھ نے کہا کہ ایکسپریس وے سے کمبوڈیا میں سفری اور لاجسٹک نظام کی کارکردگی میں اضافہ ہوا ہے اور یہ دیگرممالک کے ساتھ سیاحت اور تجارتی تبادلوں کو فروغ دینے کے لیے ایک اسٹریٹجک شاہراہ ہے۔
پنوم پن(شِنہوا) کمبوڈیا میں عوام کے لیےگزشتہ سال نومبر میں باضابطہ طور پر کھولے جانے کے بعد سے پنوم پن-سیہانوک ویل ایکسپریس وے پرپہلے 11 ماہ میں 42لاکھ سے زیادہ گاڑیوں نے سفر کیاہے۔
وزارت تعمیرات عامہ وٹرانسپورٹ میں ٹیکنالوجی اورتعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل اورترجمان ہیانگ سوتھیوتھ نے منگل کوشِنہوا کو بتایا کہ نومبر 2022 سے ستمبر 2023 تک، پنوم پن -سیہانوک ویل ایکسپریس وے پر ٹریفک کا مجموعی حجم 42لاکھ 40ہزار گاڑیاں رہا۔
چائنہ روڈ اینڈ برج کارپوریشن (سی آر بی سی) کی طرف سے 2 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری سے، 187 کلومیٹر طویل ایکسپریس وے دارالحکومت پنوم پن کو بین الاقوامی گہرے پانیوں کے بندرگاہی صوبے پریہ سیہانوک سے ملاتی ہے۔
سوتھیوتھ نے کہا کہ ایکسپریس وے سے کمبوڈیا میں سفری اور لاجسٹک نظام کی کارکردگی میں اضافہ ہوا ہے اور یہ دیگرممالک کے ساتھ سیاحت اور تجارتی تبادلوں کو فروغ دینے کے لیے ایک اسٹریٹجک شاہراہ ہے۔
استنبول(شنہوا)ترکیہ کے ایک سکالر نے کہا ہے کہ چین سماجی و اقتصادی نقطہ نظر سے انسانی حقوق سے متعلقہ مسائل پر توجہ اور دنیا کے تمام لوگوں کے انسانی وقار کو ترجیح دیتا ہے۔
انقرہ میں قائم ایشیا پیسیفک اسٹڈیز کے ترک مرکز کے ڈائریکٹر سیلکوک کولاکوگلو نےشِنہوا کے ساتھ ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ چین کا خیال ہے کہ انسانی حقوق کا صحیح طریقے سے استعمال باوقارزندگی اور مناسب آمدنی کے ساتھ منصفانہ ترقی کے بغیر نہیں کیا جا سکتا اور وہ اس کے مطابق اقدامات کر رہا ہے۔
لاکھوں لوگوں کو شدیدغربت سے نکالنے میں چین کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے ترک سکالرنے کہا کہ چین انسانی وقارمیں اضافے کے لیے ایک ترجیح کے طور پر ترقی پر توجہ دے رہا ہے اور اس سلسلے میں، غربت کا خاتمہ ایک اہم نکتہ ہے۔
کولاکوگلو نے کہا کہ چین انسانی حقوق اور انسانی وقار پر مربوط توجہ دے رہا ہے جن میں عمومی لحاظ سے لوگوں کے حقوق کو وسعت دینا ، صنفی مساوات کی حمایت ، اور شہری اور دیہی توازن کے لیے آوازاٹھانا شامل ہے۔
استنبول(شنہوا)ترکیہ کے ایک سکالر نے کہا ہے کہ چین سماجی و اقتصادی نقطہ نظر سے انسانی حقوق سے متعلقہ مسائل پر توجہ اور دنیا کے تمام لوگوں کے انسانی وقار کو ترجیح دیتا ہے۔
انقرہ میں قائم ایشیا پیسیفک اسٹڈیز کے ترک مرکز کے ڈائریکٹر سیلکوک کولاکوگلو نےشِنہوا کے ساتھ ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ چین کا خیال ہے کہ انسانی حقوق کا صحیح طریقے سے استعمال باوقارزندگی اور مناسب آمدنی کے ساتھ منصفانہ ترقی کے بغیر نہیں کیا جا سکتا اور وہ اس کے مطابق اقدامات کر رہا ہے۔
لاکھوں لوگوں کو شدیدغربت سے نکالنے میں چین کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے ترک سکالرنے کہا کہ چین انسانی وقارمیں اضافے کے لیے ایک ترجیح کے طور پر ترقی پر توجہ دے رہا ہے اور اس سلسلے میں، غربت کا خاتمہ ایک اہم نکتہ ہے۔
کولاکوگلو نے کہا کہ چین انسانی حقوق اور انسانی وقار پر مربوط توجہ دے رہا ہے جن میں عمومی لحاظ سے لوگوں کے حقوق کو وسعت دینا ، صنفی مساوات کی حمایت ، اور شہری اور دیہی توازن کے لیے آوازاٹھانا شامل ہے۔
جبلجانا (شِنہوا) چین کی نان جنگ یونیورسٹی کے روایتی آلات آرکسٹرا نے جبلجانا یونیورسٹی کی موسیقی اکیڈمی میں چینی کلاسیکی موسیقی کا کنسرٹ پیش کیا۔
سلووینیا کے دارالحکومت کے مرکز میں منعقدہ کنسرٹ میں سلووینیا میں چین کے سفیر وانگ شون چھنگ سمیت 100 سے زائد افراد نے شرکت کی۔
آرکسٹرا میں کلاسک گیت جیسے "فلم ڈریم آف دی ریڈ چیمبر" کا تھیم سانگ اور "آل برڈ پے ہوم ایج ٹو دی فینکس" پیش کئےگئے تھے۔ آکسٹرا پروفیسر ژانگ جنگ نے ترتیب دیا تھا۔
سلووینیا میں کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر ڈینی جیلا وولجکس نے کہا کہ موسیقی سرحدی قید سے بالاتر ہے اور اسے سمجھنے کے لئے کسی ترجمہ کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔
نان جنگ یونیورسٹی کے نائب صدر ژانگ جن فینگ نے کہا کہ آرکسٹرا ثقافت کا پیغام پہنچاتا ہے، یہ چینی موسیقی کی خوبصورتی اور مختلف ثقافتوں کی ترجمانی کرتا ۔ اس سے ایک دوسرے کو سمجھنے اور دوستی کو فروغ ملتا ہے۔
اس کنسرٹ کا اہتمام جبلجانا میں کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ نے کیا تھا ۔ 2010 میں قائم ہونے والے اس ادارے کا مقصد سلووینیا میں چینی زبان اور ثقافت کا فروغ ہے۔
آرکسٹرا کی بنیاد 1996 میں رکھی گئی تھی اور اس میں یونیورسٹی کے مختلف شعبوں سے انڈر گریجویٹ ، گریجویٹ اور ڈاکٹریٹ کے طلباء شامل ہیں۔
آکسٹرا دنیا بھر اور خاص طور پر بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو میں شامل ممالک میں ایک ہزار سے زائد تقریبات کا انعقاد کرچکا ہے۔ سلووینیا 2017 میں اس انیشی ایٹو کا حصہ بنا تھا۔
سوچی، روس (شِنہوا) روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ تقریباً 20 ممالک برکس گروپ کے ساتھ شراکت داری قائم کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں جو آج کی کثیر قطبی دنیا میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔
لاوروف نے یہ بات روس کے شہر سوچی میں منعقد ہونے والے والدائی ڈسکشن کلب کے 20 ویں سالانہ اجلاس کے موقع پر کہی۔
لاوروف نے کہا کہ دنیا کثیر قطبی ہوتی جا رہی ہے، ممالک قابل اعتماد شراکت دار تلاش کرنا چاہتے ہیں اور برکس کی توسیع کو اس کے براہ راست ثبوت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 6 ریاستیں برکس کے پانچ رکن ممالک کے ساتھ شامل ہوگئی ہیں اور تقریباً 20 مما لک (ایسوسی ایشن کے ساتھ) خصوصی تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں۔
روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ برکس کو ایک قابل اعتماد ایسوسی ایشن کے طور پر دیکھا جاتا ہے ،برکس کے ارکان کو قابل اعتماد شراکت داروں کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
والدائی ڈسکشن کلب کے اس سال کے اجلاس کا موضوع "فیئر ملٹی پولرٹی: سب کے لئے سلامتی اور ترقی کو کیسے یقینی بنایا جائے" ہے۔
یہ تقریب 2 سے 5 اکتوبر تک سوچی میں منعقد ہوگی اور اس میں 40 سے زائد ممالک کے 140 ماہرین، سیاستدان اور سفارت کار شرکت کریں گے۔
سوچی، روس (شِنہوا) روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ تقریباً 20 ممالک برکس گروپ کے ساتھ شراکت داری قائم کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں جو آج کی کثیر قطبی دنیا میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔
لاوروف نے یہ بات روس کے شہر سوچی میں منعقد ہونے والے والدائی ڈسکشن کلب کے 20 ویں سالانہ اجلاس کے موقع پر کہی۔
لاوروف نے کہا کہ دنیا کثیر قطبی ہوتی جا رہی ہے، ممالک قابل اعتماد شراکت دار تلاش کرنا چاہتے ہیں اور برکس کی توسیع کو اس کے براہ راست ثبوت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 6 ریاستیں برکس کے پانچ رکن ممالک کے ساتھ شامل ہوگئی ہیں اور تقریباً 20 مما لک (ایسوسی ایشن کے ساتھ) خصوصی تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں۔
روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ برکس کو ایک قابل اعتماد ایسوسی ایشن کے طور پر دیکھا جاتا ہے ،برکس کے ارکان کو قابل اعتماد شراکت داروں کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
والدائی ڈسکشن کلب کے اس سال کے اجلاس کا موضوع "فیئر ملٹی پولرٹی: سب کے لئے سلامتی اور ترقی کو کیسے یقینی بنایا جائے" ہے۔
یہ تقریب 2 سے 5 اکتوبر تک سوچی میں منعقد ہوگی اور اس میں 40 سے زائد ممالک کے 140 ماہرین، سیاستدان اور سفارت کار شرکت کریں گے۔
جکارتہ(شِنہوا) انڈونیشیا کے وزیر برائے نقل و حمل نے کہا ہے کہ چین نے نقل و حمل کے شعبے میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور انڈونیشیا چین کے ساتھ اپنے تعاون کو وسعت دینے اور گہرا کرنے کا منتظر ہے۔
انڈونیشیا کے وزیر نقل و حمل بودی کاریا سمادی نے اگست میں جکارتہ میں ایک خصوصی انٹرویو میں شِنہوا کو بتایا کہ چین کے پاس ریلوے ، شپنگ اور ہوائی جہاز کی مینوفیکچرنگ کی صنعتوں میں معروف ٹیکنالوجی ہے اور یہ انڈونیشیا اور دیگر ترقی پذیر ممالک کے لئے ایک ماڈل بن گیا ہے۔
نقل و حمل کے شعبے میں چین اور انڈونیشیا کے مابین تعاون کے ایک تاریخی منصوبے جکارتہ-بانڈونگ ہائی اسپیڈ ریلوے (ایچ ایس آر) کے بارے میں بات کرتے ہوئے سمادی نے کہا کہ اس سے انڈونیشیا کی تیز رفتار ریلوے ٹیکنالوجی میں ترقی ہوئی ہے اور انڈونیشیا کے عوام کے فخر میں اضافہ ہوا ہے۔
سمادی نے کہا کہ جکارتہ۔ بانڈونگ ایچ ایس آر دونوں شہروں کے درمیان سفر کے وقت کو کم کرتی ہے ، علاقائی لوگوں کے مابین تبادلوں کو بہت فروغ دیتی ہے اور سیاحت ، روزگار اور تعلیم سمیت ترقیاتی شعبوں کو آگے بڑھاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چینی بلڈرز کی پیشہ ورانہ مہارت اور لگن سیکھنے کے قابل ہے اور انڈونیشیا کو امید ہے کہ تیز رفتار ریلوے کے آپریشن اور بحالی میں چینی فریق کے ساتھ قریبی تعاون جاری رہے گا۔
سمادی نے کہا کہ انڈونیشیا طیارہ سازی اور شپنگ کے شعبوں میں چین کے ساتھ تعاون کو وسعت دینے کی بھی امید کرتا ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ چینی الیکٹرک کار کمپنیز اور بیٹری مینوفیکچرنگ اداروں سے مزید سرمایہ کاری کی امید کرتے ہیں۔
جکارتہ(شِنہوا) انڈونیشیا کے وزیر برائے نقل و حمل نے کہا ہے کہ چین نے نقل و حمل کے شعبے میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور انڈونیشیا چین کے ساتھ اپنے تعاون کو وسعت دینے اور گہرا کرنے کا منتظر ہے۔
انڈونیشیا کے وزیر نقل و حمل بودی کاریا سمادی نے اگست میں جکارتہ میں ایک خصوصی انٹرویو میں شِنہوا کو بتایا کہ چین کے پاس ریلوے ، شپنگ اور ہوائی جہاز کی مینوفیکچرنگ کی صنعتوں میں معروف ٹیکنالوجی ہے اور یہ انڈونیشیا اور دیگر ترقی پذیر ممالک کے لئے ایک ماڈل بن گیا ہے۔
نقل و حمل کے شعبے میں چین اور انڈونیشیا کے مابین تعاون کے ایک تاریخی منصوبے جکارتہ-بانڈونگ ہائی اسپیڈ ریلوے (ایچ ایس آر) کے بارے میں بات کرتے ہوئے سمادی نے کہا کہ اس سے انڈونیشیا کی تیز رفتار ریلوے ٹیکنالوجی میں ترقی ہوئی ہے اور انڈونیشیا کے عوام کے فخر میں اضافہ ہوا ہے۔
سمادی نے کہا کہ جکارتہ۔ بانڈونگ ایچ ایس آر دونوں شہروں کے درمیان سفر کے وقت کو کم کرتی ہے ، علاقائی لوگوں کے مابین تبادلوں کو بہت فروغ دیتی ہے اور سیاحت ، روزگار اور تعلیم سمیت ترقیاتی شعبوں کو آگے بڑھاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چینی بلڈرز کی پیشہ ورانہ مہارت اور لگن سیکھنے کے قابل ہے اور انڈونیشیا کو امید ہے کہ تیز رفتار ریلوے کے آپریشن اور بحالی میں چینی فریق کے ساتھ قریبی تعاون جاری رہے گا۔
سمادی نے کہا کہ انڈونیشیا طیارہ سازی اور شپنگ کے شعبوں میں چین کے ساتھ تعاون کو وسعت دینے کی بھی امید کرتا ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ چینی الیکٹرک کار کمپنیز اور بیٹری مینوفیکچرنگ اداروں سے مزید سرمایہ کاری کی امید کرتے ہیں۔
ارمچی (شِںہوا) بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) منصوبے نے بیرونی دنیا کے لئے چین کے کھلے پن کی نئی جہتیں متعارف کرائیں اور سنکیانگ کو ترقی کے بے مثال نئے مواقع فراہم کئے ہیں۔
شِنہوا کو ایک انٹرویو میں سنکیانگ کی علاقائی حکومت کے نائب چیئرمین یوسف جان محمد نے شِنہوا سے گفتگو میں کہا کہ ایک دہائی کی کھوج اور عملی اقدامات کے بعد سنکیانگ نے بی آر آئی منصوبوں کی تعمیر کے فروغ میں پیشرفت کی ہے۔
انہوں نے کہاکہ سنکیانگ نئی پیشرفت اور نتائج حاصل کرنے کے لئے بی آر آئی کے مرکزی علاقوں میں کھلے پن کو وسعت دینے اور اعلیٰ معیار کی ترقی کے فروغ کی کوششیں جاری رکھے گا۔
سنکیانگ کو بی آر آئی میں مرکزی علاقے کی حیثیت حاصل ہے، اس نے گزشتہ ایک دہائی میں پالیسی تعاون ، بنیادی ڈھانچے سے رابطے، مالیاتی انضمام اور لوگوں کے درمیان تبادلے جیسے شعبوں میں مسلسل کوششیں کی ہیں۔
یوسف جان محمد نے کہا کہ سنکیانگ کے دوستوں کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔ سنکیانگ کے کاروباری اداروں نے 60 سے زیادہ ممالک اور خطوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔ 4 غیر ملکی اقتصادی و تجارتی تعاون پارک تعمیر کئے اور گزشتہ 10 برس میں 7 چین-یوریشیا نمائشوں اور تقریباً 50 اجناس بارے میلوں کا انعقاد کیا ۔
اب تک خطے سے 118 بین الاقوامی سڑک کے حوالے سے نقل و حمل کے روٹ شروع ہوچکے ہیں جو چین کے مجموعہ کا ایک تہائی ہے ۔ قازقستان کے ساتھ اس کی دوسری ریلوے لائن مکمل ہونے کے بعد فعال ہوچکی ہے ۔ اگست کے اختتام تک 65 ہزار چین۔ یورپ مال بردار ٹرینیں سنکیانگ سے گزرچکی تھیں جو ملک کی کل تعداد کا نصف سے زائد ہے۔
سنکیانگ محل وقوع، پالیسی اور وسائل میں منفرد مقام رکھتا ہے اور حالیہ برسوں میں یہ بڑی مقامی صنعتوں، جیسے سبز کان کنی، اناج اور تیل، کپاس، ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے فروغ سے ایک جدید صنعتی نظام کی تشکیل کو تیز کررہا ہے۔
ارمچی (شِںہوا) بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) منصوبے نے بیرونی دنیا کے لئے چین کے کھلے پن کی نئی جہتیں متعارف کرائیں اور سنکیانگ کو ترقی کے بے مثال نئے مواقع فراہم کئے ہیں۔
شِنہوا کو ایک انٹرویو میں سنکیانگ کی علاقائی حکومت کے نائب چیئرمین یوسف جان محمد نے شِنہوا سے گفتگو میں کہا کہ ایک دہائی کی کھوج اور عملی اقدامات کے بعد سنکیانگ نے بی آر آئی منصوبوں کی تعمیر کے فروغ میں پیشرفت کی ہے۔
انہوں نے کہاکہ سنکیانگ نئی پیشرفت اور نتائج حاصل کرنے کے لئے بی آر آئی کے مرکزی علاقوں میں کھلے پن کو وسعت دینے اور اعلیٰ معیار کی ترقی کے فروغ کی کوششیں جاری رکھے گا۔
سنکیانگ کو بی آر آئی میں مرکزی علاقے کی حیثیت حاصل ہے، اس نے گزشتہ ایک دہائی میں پالیسی تعاون ، بنیادی ڈھانچے سے رابطے، مالیاتی انضمام اور لوگوں کے درمیان تبادلے جیسے شعبوں میں مسلسل کوششیں کی ہیں۔
یوسف جان محمد نے کہا کہ سنکیانگ کے دوستوں کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔ سنکیانگ کے کاروباری اداروں نے 60 سے زیادہ ممالک اور خطوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔ 4 غیر ملکی اقتصادی و تجارتی تعاون پارک تعمیر کئے اور گزشتہ 10 برس میں 7 چین-یوریشیا نمائشوں اور تقریباً 50 اجناس بارے میلوں کا انعقاد کیا ۔
اب تک خطے سے 118 بین الاقوامی سڑک کے حوالے سے نقل و حمل کے روٹ شروع ہوچکے ہیں جو چین کے مجموعہ کا ایک تہائی ہے ۔ قازقستان کے ساتھ اس کی دوسری ریلوے لائن مکمل ہونے کے بعد فعال ہوچکی ہے ۔ اگست کے اختتام تک 65 ہزار چین۔ یورپ مال بردار ٹرینیں سنکیانگ سے گزرچکی تھیں جو ملک کی کل تعداد کا نصف سے زائد ہے۔
سنکیانگ محل وقوع، پالیسی اور وسائل میں منفرد مقام رکھتا ہے اور حالیہ برسوں میں یہ بڑی مقامی صنعتوں، جیسے سبز کان کنی، اناج اور تیل، کپاس، ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے فروغ سے ایک جدید صنعتی نظام کی تشکیل کو تیز کررہا ہے۔
ارمچی (شِںہوا) بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) منصوبے نے بیرونی دنیا کے لئے چین کے کھلے پن کی نئی جہتیں متعارف کرائیں اور سنکیانگ کو ترقی کے بے مثال نئے مواقع فراہم کئے ہیں۔
شِنہوا کو ایک انٹرویو میں سنکیانگ کی علاقائی حکومت کے نائب چیئرمین یوسف جان محمد نے شِنہوا سے گفتگو میں کہا کہ ایک دہائی کی کھوج اور عملی اقدامات کے بعد سنکیانگ نے بی آر آئی منصوبوں کی تعمیر کے فروغ میں پیشرفت کی ہے۔
انہوں نے کہاکہ سنکیانگ نئی پیشرفت اور نتائج حاصل کرنے کے لئے بی آر آئی کے مرکزی علاقوں میں کھلے پن کو وسعت دینے اور اعلیٰ معیار کی ترقی کے فروغ کی کوششیں جاری رکھے گا۔
سنکیانگ کو بی آر آئی میں مرکزی علاقے کی حیثیت حاصل ہے، اس نے گزشتہ ایک دہائی میں پالیسی تعاون ، بنیادی ڈھانچے سے رابطے، مالیاتی انضمام اور لوگوں کے درمیان تبادلے جیسے شعبوں میں مسلسل کوششیں کی ہیں۔
یوسف جان محمد نے کہا کہ سنکیانگ کے دوستوں کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔ سنکیانگ کے کاروباری اداروں نے 60 سے زیادہ ممالک اور خطوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔ 4 غیر ملکی اقتصادی و تجارتی تعاون پارک تعمیر کئے اور گزشتہ 10 برس میں 7 چین-یوریشیا نمائشوں اور تقریباً 50 اجناس بارے میلوں کا انعقاد کیا ۔
اب تک خطے سے 118 بین الاقوامی سڑک کے حوالے سے نقل و حمل کے روٹ شروع ہوچکے ہیں جو چین کے مجموعہ کا ایک تہائی ہے ۔ قازقستان کے ساتھ اس کی دوسری ریلوے لائن مکمل ہونے کے بعد فعال ہوچکی ہے ۔ اگست کے اختتام تک 65 ہزار چین۔ یورپ مال بردار ٹرینیں سنکیانگ سے گزرچکی تھیں جو ملک کی کل تعداد کا نصف سے زائد ہے۔
سنکیانگ محل وقوع، پالیسی اور وسائل میں منفرد مقام رکھتا ہے اور حالیہ برسوں میں یہ بڑی مقامی صنعتوں، جیسے سبز کان کنی، اناج اور تیل، کپاس، ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے فروغ سے ایک جدید صنعتی نظام کی تشکیل کو تیز کررہا ہے۔
بیجنگ (شِنہوا) چین کے صدر شی جن پھنگ نے کامن ویلتھ آ ف ڈومینیکا کے صدر کا عہدہ سنبھالنے پر سلوانی برٹن کو مبارکباد دی ہے۔
اپنے پیغام میں شی جن پھنگ نے ڈومینیکا کو کیریبین خطے میں چین کا مخلص دوست اور قابل اعتماد شراکت دار قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے چین اور ڈومینیکا نے ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ برابری کا سلوک کیا ہے اور سیاسی باہمی اعتماد کو مستحکم کرنے سے عملی تعاون کے بامعنی نتائج برآمد ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان دوستی گہری ہوئی ہے۔
شی نے کہا کہ چین ڈومینیکا کی جانب سے چین کے بنیادی مفادات اور اہم خدشات سے متعلق امور پر چین کے منصفانہ موقف کی مسلسل حمایت کو سراہتا ہے۔
چینی صدر نے کہا کہ میں دوطرفہ تعلقات کی ترقی کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور صدر برٹن کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہوں تاکہ آئندہ سال سفارتی تعلقات کے قیام کی 20 ویں سالگرہ کو دوطرفہ دوستانہ تعلقات کو اعلیٰ سطح پر لے جانے کے موقع کے طور پر لیا جا سکے جس سے دونوں ممالک کے عوام کو زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل ہوسکیں۔
کوالالمپور(شِنہوا) ملائیشیا چین ۔آسیان ایکسپو (سی اے ای ایکس پی او) کے ذریعے چین کے ساتھ اپنے اقتصادی روابط سے بہت زیادہ فائدہ اٹھا رہا ہے۔
ملائیشیا ایکسٹرنل ٹریڈ ڈیویلپمنٹ کارپوریشن ( ایم اے ٹی آر اے ڈی ای ) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد مصطفی عبدالعزیز نے ایکسپو میں ملک کی کامیاب شرکت کے بعد ایک بیان میں کہا کہ چین ملائیشیا کا سب سے بڑا اور اہم تجارتی شراکت دار ہے۔
انہوں نے کہا کہ سی اے ای ایکس پی او میں ملائیشیا کی شرکت نے برآمدی فروخت اور کاروباری شراکت داری کی نمایاں قدر حاصل کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چینی خریداروں کی جانب سے مسلسل سورسنگ ملائیشین مصنوعات اور خدمات کے معیار، لچک اور مسابقت کو ظاہر کرتی ہے جو گزشتہ 20 سالوں سے سی اے ای ایکس پی او میں ملائیشیا اور چین کے مابین تجارتی لین دین کی ترقی کی رفتار کو آگے بڑھا رہی ہے۔
عہدیدار نے کہا کہ ایم اے ٹی آر اے ڈی ای چین کو برآمدات کو فروغ دینے کے لئے چینی کاروباری برادری کے ساتھ قریبی روابط کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کرنا جاری رکھے گا۔
ملائیشیا نے چین کے جنوبی گوانگشی ژوانگ خود اختیار خطے کے دارالحکومت نان ننگ میں 16 سے 19 ستمبر تک منعقد ہونے والی 20 ویں چین-آسیان ایکسپو میں 107 ملائیشین کمپنیز اور 9 سرکاری ایجنسیز کو بھیجا تھا۔
کوالالمپور(شِنہوا) ملائیشیا چین ۔آسیان ایکسپو (سی اے ای ایکس پی او) کے ذریعے چین کے ساتھ اپنے اقتصادی روابط سے بہت زیادہ فائدہ اٹھا رہا ہے۔
ملائیشیا ایکسٹرنل ٹریڈ ڈیویلپمنٹ کارپوریشن ( ایم اے ٹی آر اے ڈی ای ) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد مصطفی عبدالعزیز نے ایکسپو میں ملک کی کامیاب شرکت کے بعد ایک بیان میں کہا کہ چین ملائیشیا کا سب سے بڑا اور اہم تجارتی شراکت دار ہے۔
انہوں نے کہا کہ سی اے ای ایکس پی او میں ملائیشیا کی شرکت نے برآمدی فروخت اور کاروباری شراکت داری کی نمایاں قدر حاصل کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چینی خریداروں کی جانب سے مسلسل سورسنگ ملائیشین مصنوعات اور خدمات کے معیار، لچک اور مسابقت کو ظاہر کرتی ہے جو گزشتہ 20 سالوں سے سی اے ای ایکس پی او میں ملائیشیا اور چین کے مابین تجارتی لین دین کی ترقی کی رفتار کو آگے بڑھا رہی ہے۔
عہدیدار نے کہا کہ ایم اے ٹی آر اے ڈی ای چین کو برآمدات کو فروغ دینے کے لئے چینی کاروباری برادری کے ساتھ قریبی روابط کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کرنا جاری رکھے گا۔
ملائیشیا نے چین کے جنوبی گوانگشی ژوانگ خود اختیار خطے کے دارالحکومت نان ننگ میں 16 سے 19 ستمبر تک منعقد ہونے والی 20 ویں چین-آسیان ایکسپو میں 107 ملائیشین کمپنیز اور 9 سرکاری ایجنسیز کو بھیجا تھا۔
کوالالمپور(شِنہوا) ملائیشیا چین ۔آسیان ایکسپو (سی اے ای ایکس پی او) کے ذریعے چین کے ساتھ اپنے اقتصادی روابط سے بہت زیادہ فائدہ اٹھا رہا ہے۔
ملائیشیا ایکسٹرنل ٹریڈ ڈیویلپمنٹ کارپوریشن ( ایم اے ٹی آر اے ڈی ای ) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد مصطفی عبدالعزیز نے ایکسپو میں ملک کی کامیاب شرکت کے بعد ایک بیان میں کہا کہ چین ملائیشیا کا سب سے بڑا اور اہم تجارتی شراکت دار ہے۔
انہوں نے کہا کہ سی اے ای ایکس پی او میں ملائیشیا کی شرکت نے برآمدی فروخت اور کاروباری شراکت داری کی نمایاں قدر حاصل کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چینی خریداروں کی جانب سے مسلسل سورسنگ ملائیشین مصنوعات اور خدمات کے معیار، لچک اور مسابقت کو ظاہر کرتی ہے جو گزشتہ 20 سالوں سے سی اے ای ایکس پی او میں ملائیشیا اور چین کے مابین تجارتی لین دین کی ترقی کی رفتار کو آگے بڑھا رہی ہے۔
عہدیدار نے کہا کہ ایم اے ٹی آر اے ڈی ای چین کو برآمدات کو فروغ دینے کے لئے چینی کاروباری برادری کے ساتھ قریبی روابط کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کرنا جاری رکھے گا۔
ملائیشیا نے چین کے جنوبی گوانگشی ژوانگ خود اختیار خطے کے دارالحکومت نان ننگ میں 16 سے 19 ستمبر تک منعقد ہونے والی 20 ویں چین-آسیان ایکسپو میں 107 ملائیشین کمپنیز اور 9 سرکاری ایجنسیز کو بھیجا تھا۔
چین، مشرقی صوبے ژے جیانگ کے شہر ہانگ ژو میں جاری 19 ویں ایشیائی کھیلوں کے دوران برج کے خواتین کے ٹیم سیمی فائنل سیشن 1 میں چینی ٹیم سنگاپور کی ٹیم سے مقابلہ کر رہی ہے۔ (شِنہوا)
چین، مشرقی صوبے ژے جیانگ کے شہر ہانگ ژو میں جاری 19 ویں ایشیائی کھیلوں کے دوران برج کے خواتین کے ٹیم سیمی فائنل سیشن 1 میں چینی ٹیم سنگاپور کی ٹیم سے مقابلہ کر رہی ہے۔ (شِنہوا)
چین، مشرقی صوبے ژے جیانگ کے شہر چھن آن میں 19 ویں ایشیائی کھیلوں کے دوران خواتین کے انفرادی سائیکلنگ مقابلے میں چین کے ہانگ کانگ کی لیونگ ونگ یی مقابلہ کررہی ہیں۔ (شِںہوا)
چین، مشرقی صوبے ژے جیانگ کے شہر چھن آن میں 19 ویں ایشیائی کھیلوں کے دوران خواتین کے انفرادی سائیکلنگ مقابلے میں چین کے ہانگ کانگ کی لیونگ ونگ یی مقابلہ کررہی ہیں۔ (شِںہوا)
چین، مشرقی صوبے ژے جیانگ کے شہر ہانگ ژو میں جاری 19 ویں ایشیائی کھیلوں کے دوران چین کے سن چھی ہاؤ مردوں کے ڈیکاتھلون پول والٹ آف ایتھلیٹکس میں مقابلہ کر رہے ہیں۔(شِنہوا)
چین، مشرقی صوبے ژے جیانگ کے شہر ہانگ ژو میں جاری 19 ویں ایشیائی کھیلوں کے دوران چین کے سن چھی ہاؤ مردوں کے ڈیکاتھلون پول والٹ آف ایتھلیٹکس میں مقابلہ کر رہے ہیں۔(شِنہوا)
چین، مشرقی صوبے ژے جیانگ کے شہر ہانگ ژو میں جاری 19 ویں ایشیائی کھیلوں کے دوران گروپ بی میں مردوں کے کبڈی میچ میں پاکستان اور ایران کے درمیان مقابلے کا ایک منظر۔ (شِنہوا)
چین، مشرقی صوبے ژے جیانگ کے شہر ہانگ ژو میں جاری 19 ویں ایشیائی کھیلوں کے دوران گروپ بی میں مردوں کے کبڈی میچ میں پاکستان اور ایران کے درمیان مقابلے کا ایک منظر۔ (شِنہوا)
چین، مشرقی صوبے ژے جیانگ کے شہر ہانگ ژو میں جاری 19 ویں ایشیائی کھیلوں کے دوران گروپ بی میں مردوں کے کبڈی میچ میں پاکستان اور ایران کے درمیان مقابلے کا ایک منظر۔ (شِنہوا)
چین، مشرقی صوبے ژے جیانگ کے شہر ہانگ ژو میں جاری 19 ویں ایشیائی کھیلوں کے دوران گروپ بی میں مردوں کے کبڈی میچ میں پاکستان اور ایران کے درمیان مقابلے کا ایک منظر۔ (شِنہوا)
چین، مشرقی صوبے ژے جیانگ کے شہر ہانگ ژو میں جاری 19 ویں ایشیائی کھیلوں کے دوران گروپ بی میں مردوں کے کبڈی میچ میں پاکستان اور ایران کے درمیان مقابلے کا ایک منظر۔ (شِنہوا)
چین، مشرقی صوبے ژے جیانگ کے شہر ہانگ ژو میں جاری 19 ویں ایشیائی کھیلوں کے دوران گروپ بی میں مردوں کے کبڈی میچ میں پاکستان اور ایران کے درمیان مقابلے کا ایک منظر۔ (شِنہوا)
تائی یوآن (شِنہوا) دریائے زرد کے کنارے آباد ایک قدیم قصبے چھی کو تاریخی طور پر کشتی کے ذریعے تجارت کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔
زمینی نقل و حمل کی ترقی نے قدیم قصبے چھی کو میں تجارتی حجم کو ختم کردیا جس سے اس کی متعدد تاریخی عمارتیں خستہ حالی کا شکار ہوگئیں۔
مقامی حکام نے حالیہ برسوں میں قدیم قصبے چھی کو میں تاریخی عمارتوں اور قدیم رہائش گاہوں کے تحفظ اور بحالی کا کام کیا۔
اس کے ساتھ ساتھ ثقافت و سیاحت کی مربوط ترقی کو بھی فروغ دیا گیا ۔
آج یہ قدیم قصبہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ اس کی آبادی تقریباً 30 ہزار افراد پر مشتمل ہے جس میں سے 5 ہزار سے زائد افراد سیاحتی صنعت سے وابستہ ہیں۔
چین ، شمالی صوبے شنشی کی کاؤنٹی لین شیان کے قدیم قصبے چھی کو میں دیہاتی جیا جوآن اپنے ریستوران میں پکوان پیش کررہی ہے۔ (شِںہوا)
چین ، شمالی صوبے شنشی کی کاؤنٹی لین شیان کے قدیم قصبے چھی کو میں دیہاتی لیو جن تو اپنے اونٹ کو تیار کررہا ہے۔ (شِںہوا)
چین ، شمالی صوبے شنشی کی کاؤنٹی لین شیان کے قدیم قصبے چھی کو میں دیہاتی لی یونگ لی اپنے گدھے کو صاف کررہا ہے۔ (شِنہوا)
چین ، شمالی صوبے شنشی کی کاؤنٹی لین شیان کے قدیم قصبے چھی کو میں فینگ یان آئی شیر کی شکل کی طرز پر ہاتھ سے تیار کردہ کپڑے دکھارہی ہے۔ (شِںہوا)
چین ، شمالی صوبے شنشی کی کاؤنٹی لین شیان کے قدیم قصبے چھی کو کا ایک دلکش منظر۔ (شِںہوا)
چین ، شمالی صوبے شنشی کی کاؤنٹی لین شیان کے قدیم قصبے چھی کو کا ایک دلکش منظر۔ (شِںہوا)
لہاسا (شِنہوا) چین کی ایک 18 رکنی مہم جو ٹیم سائنسی تحقیق کے لئے ماؤنٹ چھو اویو کی چوٹی پر کامیابی سے پہنچ گئی۔ سطح سمندر سے 8 ہزار 201 میٹر بلند اس چوٹی کو ماؤنٹ چھو وو یاگ بھی کہا جاتا ہے۔یہ پہلا موقع تھا جب چینی سائنس دانوں نے ماؤنٹ قومولانگما ما چوٹی کے علاوہ 8 ہزار میٹر سے زائد بلند چوٹی سر کی ہے۔
چینی مہم جو ٹیم کی ایک رکن ماؤنٹ چھو اویو خطے میں گلیشیئر سے بنی جھیل پر پانی کا معیار جانچ ر ہی ہے۔ (شِنہوا)
چینی مہم جو ٹیم کے ارکان ماؤنٹ چھو اویو خطے میں گلیشیئر سے بنی جھیل پر پانی کا معیار جانچ رہے ہیں۔ (شِنہوا)
چینی مہم جو ٹیم کا ایک رکن ماؤنٹ چھو اویو خطے میں گلیشیئر سے بنی جھیل سے حاصل کردہ نمونہ جانچ رہا ہے۔ (شِنہوا)
چینی مہم جو ٹیم کے ارکان ماؤنٹ چھو اویو خطے میں گلیشیئر سے بنی جھیل پر پانی کا معیار جانچ رہے ہیں۔ (شِنہوا)
ترکیہ میں پولیس نے اتوار کو ہونے والے خودکش حملے میں ملوث دہشتگردوں کی تلاش میں 18 صوبوں میں کارروائی کرتے ہوئے 90 افراد کو گرفتار کر لیا۔ کرد عسکریت پسند گروپ سے تعلق کے الزام کے شبے میں گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔ واضح رہے کہ دو روز قبل ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں پارلیمنٹ کی عمارت کے قریب ہونے والے دھماکے کی ذمے داری کرد عسکریت پسندوں نے قبول کی تھی۔ خودکش دھماکے میں 2 پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے جبکہ ایک خودکش حملہ آور کو پولیس نے فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا۔
خواتین کو ہراساں کرنے کے الزام میں میکسیکو کے سابق سفارت کار اور مصنف آندریس رومر کو اسرائیل میں گرفتار کرلیا گیا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق آندریس رومر کی گرفتاری سے آگاہ کرتے ہوئے میکسیکو کے صدر آندریس مینوئل لوپیز اوبراڈور نے بتایا کہ سابق سفارت کار کو اسرائیل میں گرفتار کیا گیا اور ملک بدر کردیا جائے گا۔ اسرائیل ممکنہ طور پر میکسیکو کے سابق سفارت کار کو ان کے ملک کے حوالے کردے گا جہاں آندریس رومر کے خلاف جنسی زیادتی اور ہراسانی کے مقدمات چلائے جائیں گے۔خیال رہے کہ 60 سالہ آندریس رومر میکیسکو کے سان فرانسسکو میں قونصل جنرل اور اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو میں اپنے ملک کی نمائندگی کرچکے ہیں جب کہ وہ ملک کے معروف لکھاری اور پروڈیوسر بھی ہیں۔ سابق سفارت کار آندریس رومر پر سب سے پہلے فروری 2021 میں سوشل میڈیا پر چلنے والی می ٹو مہم کے دوران میکسیکو کی معروف رقاصہ اٹزل سناس نے جنسی زیادتی کا الزام لگایا تھا جس کے بعد سے تقریبا 60 سے زائد جنسی جرائم کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ ان خواتین نے الزام عائد کیا تھا کہ آندریس رومر نے کام کے دوران نامناسب انداز سے چھوا اور نازیبا حرکات کیا کرتے تھے جس کے باعث کچھ خواتین کو ملازمت چھوڑنا بھی پڑی تھی۔ دوسری جانب آندریس رومر نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اس کی قطعی طور پر تردید کی تھی تاہم وہ سوشل میڈیا سے دور ہوگئے تھے۔ ان الزامات کے بعد میکسیکو نے اپنے ہی سفارت کار کے خلاف اسرائیل سے درخواست کی تھی کہ آندریس رومر کو ملک بدر کر کے واپس میکسیکو بھیجا جائے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مجھے نہیں لگتا امریکی شہری فراڈ کیس کیخلاف میرے ساتھ کھڑے ہوں گے، ڈیمو کریٹ میری وائٹ ہاوس میں واپسی کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیخلاف نیویارک کی اٹارنی جنرل اور ڈیمو کریٹ رہنما لیٹیا جیمز نے فراڈ کا مقدمہ کروا رکھا ہے، کیس میں سابق صدر پر جھوٹے کاغذات سے دولت میں اضافہ کرنے کا الزام ہے، ڈونلڈ ٹرمپ آج اس کیس میں عدالت پیش ہوئے۔ نیو یارک کی عدالت میں فراڈ کیس کی سماعت میں وقفے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میرے خلاف یہ جھوٹا الزام عائد ہے، ایسے جج کو بار سے نکال دینا چاہیے۔
مقبوضہ کشمیر کے ضلع راجوڑی میں بھارتی فوج پر نامعلوم افراد کے حملے میں 3 اہلکار شدید زخمی ہوگئے بھارتی میڈیا کے مطابق ضلع راجوڑی میں فوجی اہلکار معمول کی گشت پر تھے جب ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے اندھا دھند گولیاں برسا دیں جس کے نتیجے میں 3 اہلکار شدید زخمی ہوگئے۔ مقبوضہ کشمیر میں چپے چپے پر سیکیورٹی اہلکار تعینات ہیں جس کے باوجود حملہ آوروں نے نہ صرف اپنے ہدف کو نشانہ بنایا بلکہ حیران کن طور پر کارروائی کے بعد بآسانی فرار بھی ہوگئے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جیسے ہی ہم حملہ آور بھارتی فوج کی گاڑی کے قریب پہنچے۔ اہلکاروں کو اسلحہ نکالنے کا بھی موقع نہیں ملا اور وہ جان بچانے کے لیے بدحواس ہوکر دوڑ پڑے تھے۔ زخمی ہونے والوں کو اہلکاروں کو قریبی ملٹری اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں تینوں کی حالت نازک ہونے کے سبب ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاحال بھارتی فورسز حملہ آوروں کا سراغ لگانے میں ناکام رہی ہیں۔
بھارتی دارالحکومت دہلی میں پولیس نے نیوز ویب سائٹ نیوز کلک کی فنڈنگ کی تحقیقات کے سلسلے میں کئی ممتاز صحافیوں کے گھروں پر چھاپے مارے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق پولیس کی جانب سے انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت نیوز کلک سے وابستہ کئی صحافیوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے اور اس دوران ان کے موبائل اور لیپ ٹاپ قبضے میں لے لیے ہیں۔ حکام مبینہ طور پر ان الزامات کی چھان بین کر رہے ہیں کہ نیوز کلک کو چین سے غیر قانونی فنڈز ملے ہیں جبکہ نیوز ویب سائٹ نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام آزادی صحافت پر جان بوجھ کر حملہ ہے۔ 2009 میں شروع ہونے والی نیوز کلک ایک آزاد خبروں اور حالات حاضرہ کی ویب سائٹ ہے جو حکومت پر تنقید کے لیے جانی جاتی ہے۔ 2021 میں ٹیکس حکام نے بھارت کے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے قوانین کو توڑنے کے الزام میں اس کے خلاف کارروائی تھی۔ منگل کے روز جن لوگوں کے گھروں پر مبینہ طور پر چھاپے مارے گئے ہیں ان میں ویب سائٹ کے ایڈیٹر پربیر پرکیاستھ، صحافی ابھیسر شرما، آنندیو چکرورتی اور بھاشا سنگھ، مشہور طنز نگار سنجے راجورا اور مورخ سہیل ہاشمی شامل ہیں، ان میں سے کچھ کو پوچھ گچھ کے لیے پولیس سٹیشن بھی لے جایا گیا ہے۔ پولیس نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی ردہ عمل نہیں دیا ہے لیکن ابھیسر شرما نے اپنے ایکس اکانٹ پر کارروائی کی تصدیق کی اور کہا کہ پولیس نے ان کا فون اور لیپ ٹاپ چھین لیا ہے۔ بھاشا سنگھ نے بھی یہی لکھا کہ پولیس نے ان کا فون ضبط کر لیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق دہلی میں ویب سائٹ کے دفتر کی تلاشی بھی جاری ہے۔
لاہور کے علاقے کاہنہ میں سنگدل باپ نے 4 بچے قتل کرکے لاشیں نہر میں پھینک دیے۔ تفصیلات کے مطابق لاہور میں سنگدل باپ نے 4 بچوں کو قتل کردیا، مقتول بچوں کی عمریں بارہ سے پانچ سال کے درمیان ہیں، بچوں کی شناخت صابر، عائشہ ، نبیہہ اور سمیہ کے نام سے ہوئی۔ پولیس کے مطابق بچوں کو قتل کرنے کے بعد ملزم نے لاشیں قصور للیانی نہر میں پھینکیں، ملزم عظیم نے بچوں کو قتل کرکے اغوا کا ڈرامہ رچایا تاہم شک گزرنے پر تفتیش کی تو ملزم نے چاروں بچوں کے قتل کا اعتراف کرلیا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ آج مہمند ڈیم کے متاثرین کو معاوضوں کی عدم ادائیگی اوربنک الحبیب فیصل آباد میں پانچ ارب روپے کے فراڈ کا جائزہ لے گی۔کمیٹی کا اجلاس آج بدھ کو دن بارہ بجے سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی صدارت میں پارلیمنٹ ہائوس کے کمیٹی روم نمبر دو میں منعقد ہوگا۔کمیٹی آٹھ نکاتی ایجنڈے پر غو ر کرے گی جس میں سرفہرست مہمند ڈیم کے متاثرین کو معاوضوں کی عدم ادائیگی اوربنک الحبیب فیصل آباد میں پانچ ارب روپے کے فراڈ کا معاملہ شامل ہے۔مہمند ڈیم کا معاملہ سینیٹر ہلال الرحمن نے سینیٹ اجلاس میں اٹھایا تھا۔اس کے علاوہ سولر پینل درآمد کنندگان کی طرف سے بڑے پیمانے پر منی لانڈرنگ کا معاملہ بھی زیر غور آئیگا اور گورنر سٹیٹ بنک اور چئیرمین ایف بی آر اس حوالے سے کمیٹی کو بریفنگ دیں گے۔بھاری شرح سود کے تاجر برادری پر منفی اثرات کا معاملہ بھی زیر غور آئیگا۔انسانی حقوق کی پالیسیوں کے متعلق پاکستانی بنکوں کی کم سکورنگ کا جائزہ لیا جائیگا۔سیکرٹری خزانہ بھی اجلاس میں شرکت کریں گے ۔کمیٹی کے اراکین میں سینیٹر شیری رحمن ،سینیٹر فاروق نائیک،سینیٹر مصدق ملک ،سینیٹر سعدیہ عباسی ،سینیٹر زیشان خانزادہ،سینیٹر محسن عزیز ،سینیٹر فیصل سلیم،سینیٹر شبلی فراز،سینیٹر کامل علی آغا،سینیٹر فیصل سبزواری،سینیٹر طلحہ ،سینیٹر دلاور خان،سینیٹر منظور احمداور سینیٹر ہلال الرحمن شامل ہیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور آج غیر ملکی این جی اوز کی سرگرمیوں کا جائزہ لے گی۔سیلاب زدگان کے لیے امداد اور فنڈز کے شفاف استعمال کا معاملہ بھی زیر غور آئیگا۔سیکرٹری داخلہ ،سیکرٹری خزانہ اور سیکرٹری خارجہ کو طلب کر لیا گیا۔تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اہم اجلاس آج بدھ کو دن گیارہ بجے پارلیمینٹ ہائوس کے کمیٹی روم نمبر چار میں سینیٹر فیصل سلیم رحمن کی صدارت میں ہوگا۔دو نکاتی ایجنڈے میں غیر ملکی این جی اوز کی سرگرمیوں کا جائزہ اورسیلاب زدگان کے لیے امداد اور فنڈز کے شفاف استعمال کا معاملہ شامل ہے۔وزارت داخلہ ،وزارت خارجہ اور وزارت خزانہ کے حکام کو غیر ملکی امداد سے چلنے والی تمام بین الاقوامی این جی اوز کا صوبائی اور ضلعی سطح پر ریکارڈ طلب کر لیا گیا ہے۔کمیٹی اس بات کا جائزہ لے گی کہ کوئی این جی او کسی غیر قانونی سرگرمی میں تو ملوث نہیں ہے ۔بین الاقوامی این جی اوز کی جغرافیائی کوریج اور ان کے جاری منصوبوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائیگا۔اجلاس میں سیلاب زدگان کے لیے امداد اور فنڈز کے شفاف استعمال کا معاملہ بھی زیر غور آئیگا اور این ڈی ایم اے کے چئیرمین کمیٹی کو فنڈز کی شفافیت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دیں گے،چاروں صوبوں کے ہنگامی امدادی اداروں سے بھی رپورٹس طلب کی گئیں ہیں۔اس کے علاوہ امدادی سرگرمیوں اور ریلیف میں ابتک کی غیر ملکی امداد کی صورتحال سے بھی کمیٹی کو آگاہ کیا جائیگا۔کمیٹی کے ممبران میں سینیٹراور لیڈر آف اپوزیشن ڈاکٹر شہزاد وسیم، سینیٹرنسیمہ احسان ، سینیٹرانور لال دین ، سینیٹرلیاقت خان ترکئی، سینیٹرشاہین خالد بٹ، سینیٹرعطاء الرحمن ، سینیٹرعمر فاروق، سینیٹرپلوشہ خان اور سینیٹر پرنس احمد عمر احمد زئی شامل ہیں۔اجلاس میں متعلقہ نگران وزراء کی شرکت بھی متوقع ہے۔